اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انقلاب کو جبر و تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور خلیفی ـ سعودی جلادوں نے بحرینی اپوزیشن راہنما "حسین علی الدیہی" کے والد "علی حسن الدیہی" کو شہید کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق خلیفی ـ سعودی فورسز نے "الدیہ" نامی قصبے میں شہید کے گھر پر حملہ کیا اور انہیں وحشیانہ انداز سے زد و کوب کیا جس سے ان کی سر اور بدن پر متعدد چھوٹیں آئیں اور اسپتال میں معلوم ہوا کہ ان کی شہادت سر پر لگی چھوٹوں کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔ادھر بحرینی پارلیمان کے مستعفی رکن "ہادی الموسوی" نے کہا کہ الدیہی خاندان کو آل خلیفہ کے دہشت گردوں کی طرف سے مسلسل دھمکیوں اور شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ آل خلیفہ کی سب سے بڑی مخالف جماعت "جمعیۃ الوفاق الاسلامی" نے اپنے بیان میں کہا کہ ستر سالہ علی حسن الدیھی بدھ کے روز آل خلیفہ کی فورسز کے توسط سے تشدد کا نشانہ بنے اور جمعرات کو زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے۔ آل خلیفہ حکومت، جو ابھی تک احمقوں کی جنت میں رہتے ہوئے سمجھتی ہے کہ رائے عامہ میں اس کی بات اور موقف کو قبول کیا جاتا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ علی حسن الدیھی کی موت "طبعی موت" تھی۔ آل خلیفہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ علی حسن الدیہی بدھ کے روز وہ اپنے گھر میں بے ہوش ہوگئے تھے جس کے بعد انہيں السلمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں معلوم ہوا کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور اسی بیماری کے باعث دنیا سے رخصت ہوئے۔واضح رہے کہ شہید کے بیٹے حسین الدیہی الوفاق اسلامی جمعیت کے کے دوسرے نمبر کے راہنما ہیں۔ آل خلیفہ اور آل سعود نے آل خلیفہ کے بادشاہت کے خلاف شروع ہونے والی عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے اب تک اڑتالیس افراد کو شہید کردیا ہے، ہزاروں افراد جیلوں میں بند ہیں، ہزاروں افراد کو بے روزگار کیا گیا ہے اور قیدیوں کو قرون وسطی طرز کے تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن پر امن عوامی تحریک جاری ہے اور 14 فروری 2011 سے اب تک بحرین کے عوام نے غاصب نجدی حکومت اور قابض نجدی افواج کو ایک لمحہ بھی چین سے نہیں رہنے دیا ہے۔جلوس جنازہ آل خلیفہ کے خلاف احتجاج میں بدل گیاآل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے علی حسن الدیہی کا جلوس جنازہ آل خلیفہ حکومت کے خلاف وسیع احتجاجی مظاہرے میں بدل گیا۔شہید علی الدیہی الوفاق الاسلامی کے نائب سیکریٹری جنرل "حسین الدیہی" کے والد تھے جن کی رہائشگاہ پر سرکاری گماشتوں نے حملہ کیا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔آج روز جمعہ شہید کا جنازہ اٹھا تو ہزاروں بحرینی جنازے میں شرکت کے لئے حاضر ہوئے اور آل خلیفہ اور آل سعود کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی۔ مظاہرے شہید کے آبائی قصبے الدیہ میں ان کی رہائشگاہ سے "جد حفص" میں واقع قبرستان تک جاری رہا جہاں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110